Connect with us

بلاگز

تعلیمی اداروں میں حراسگی کی بڑھتی ہوئی شرح

(تعلیمی اداروں میں حراسگی کی بڑھتی ہوئی شرح )

رامین رعنا ۔

.تعلیمی اداروں میں حراسگی کی بڑھتی ہوئی شرح

تعلیمی ادارے وہ ادارہے ہیں جہاں انسان انسانیت کا درس سیکھتا ہے ۔ والدین کے بعد تعلیمی اداروں میں بچوں کی تربیت کی جاتی ہیں ۔ ایک ایسا ادارہ جو شعور پھیلاتا ہے ۔ دنیا کے نظام کو صحیح معنوں میں سمجھایا جاتا ہے ۔ طالب علم درس گاہ سے علم کی روشنی سے فیضیاب ہوتے ہیں ۔
یہ تو تھی تعلیمی ادارے کی ایک قسم کی تعریف جو شاید ہم نہیں جانتے۔ یا شاید جانتے ہے لیکن سمجھتے ہی نہیں ۔ میں جب آج کی تعلیمی اداروں کو دیکھتی ہوں تو افسوس ہی ہوتا ہے۔ تعلیمی درسگاہ کا مطلب تو ہر ایک طالب علم کو علم کی روشنی سے منور کرنا ، لیکن آج یہ درسگاہ سے ایک ادارہ ہی بن گیا ۔

وہ اس لیے کہ یہاں علم کم اور بیوپاری زیادہ ہیں ۔ میں ہر ایک کو قصور وار نہیں سمجھتی لیکن زیادہ تر حقیقت یہی ہے ۔
میں اگر بات کرو آج کے تعلیمی اداروں کی تو ہر دوسرا طالب علم ہراسمنٹ کا شکار ہے ۔ ہراسمنٹ کا لفظ جب بھی آتا ہے تو لوگ کچھ زیادہ ہی غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
گوگل سے لی گئی تعریف
” ہراسمنٹ کے معنی متشدّدانہ دباؤ، غیر معمولی طور پر دوسروں کو اپنے سے نیچا دکھانا، متعصبانہ رویّے، غیر مہذب جسمانی حرکات، جنسی دعوت دینے والے پوشیدہ لین دین، زبانی کلامی و جسمانی حرکات سے کسی کی عزت اچھالنا وغیرہ شامل ہیں “
تعلیمی اداروں میں عورتوں کو بہت زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے ۔ جب کوئی لڑکی اگرچہ ہمت کر کے بات کریں بھی تو وہی لڑکی ہی غلط ٹھہرائی جاتی ہے۔ اپنے حق اور اگر دوسروں کے حق کی بات بھی کریں تو بھی ایک عورت ہی غلط ٹھہرائی جاتی ہے ۔
کوئی لڑکی اگر مجبور ہوتی ہے یا تھوڑی سی ذہنی طور پر دباؤ کا شکار ہوتی ہے تو تعلیمی اداروں میں ایسے بھی درندے ہوتے ہیں کہ مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان کی زندگی تباہ کر دیتے ہیں ۔

ایک تو ہمارے ملک کے نظام پر افسوس کہ ڈگری میں نمایاں نمبروں پر ہی آپ کو پرکھا جاتا ہے۔ کچھ جو اپنی ڈگری میں نمایاں نمبروں کی خاطر خود کو ان درندوں کو شکار کا موقع فراہم کر دیتے ہیں۔ کچھ اپنی ذہنی دباؤ کی وجہ سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پاتی۔
خیرخواہ کا دعویٰ کر کے بہت سے لوگ ایک لڑکی سے اس کا سب کچھ چھین لیتے ہیں۔ وہ پاگل بنی ہوتی ہے کے یہ تو میرے خیرخواہ ہے۔ یہ کیوں مجھے نقصان پہنچائے گے۔
ان کو میں درندہ اس لیے کہہ رہی ہو کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ انسانیت کی تذلیل کروں۔
ایک طالب علم کا دماغ اتنا پختہ نہیں ہوتا نہ ہی اس کی سوچ اتنی وسیع ہوتی ہے کے وہ سب کچھ سمجھ سکیں ۔ ایک درسگاہ ہی بچوں کے پروان میں کافی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ آگر چہ وہ بچوں کو غلط راہ پر چلنے پر مجبور کریں، ان کی صلاحیتوں کو نظر انداز کریں یا اگر چہ وہ ان کے اندر نفرت انگیزی پیدا کریں تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور آجکل جو درسگاہوں میں حراسگی کی شرہ بڑھ رہی ہے اس کی اول وجہ یہ ہے کے ہم غلط کو غلط نہیں کہتے ۔ غلطی کو مختلف بے بنیاد دلائلز سے چپھانے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ ضمیر کو جھوٹی اور کھوکھلی تسلی دے سکیں ۔ اسی چیز کی دیکھا دیکھی ہر ایک اس راہ پر گامزن ہے کہ وہ کر رہا ہے میں بھی کروں ۔
ہمیں اگرچہ اپنی قوم کو اس دلدل سے نکا لنا ہے تو ہمیں غلط کو غلط کہنا آنا چاہیے ۔ اپنی دل کی تسکین کی خاطر کسی کی زندگی تباہ نہیں کرنی چاہیے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *