Connect with us

تازہ ترین

پرامن کرک میں تحریک طالبان پاکستان کی کارروائی۔

تحریک طالبان

کرک۔ چند روز قبل ضلع کرک کے علاقے لتمبر میں، چنغوس پولیس چوکی کے قریب تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں نے کھلے عام مین روڈ پر کارروائی کی۔

اس واقعے نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق، عسکریت پسندوں نے راستہ روک کر لوگوں کی شناخت، نام، اور کام کے بارے میں تفتیش کی۔ لوگوں کو روکا گیا، ان کے شناختی کارڈز کی جانچ کی گئی، اور عسکریت پسندوں نے خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا جو سرکاری ملازمت میں تھے۔

اس دوران، مقامی لوگوں نے خود کو شدید خطرے میں محسوس کیا اور ان میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عسکریت پسندوں نے رات کے وقت کئی گھنٹوں تک لوگوں کی تلاشی لی اور اس دوران ویڈیو بھی ریکارڈ کی، جس میں صاف طور پر دکھایا گیا ہے کہ وہ لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کہ “آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ اور “آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟

پولیس کی چیک پوسٹ چھوڑنے کا انکشاف

ذرائع کے مطابق، چند روز قبل مقامی پولیس نے اس علاقے میں قائم چیک پوسٹ کو مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے خالی کر دیا تھا۔

پولیس کی عدم موجودگی نے عسکریت پسندوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی کارروائیاں کریں اور مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیلائیں۔

کرک پولیس کا اس طرح چیک پوسٹ چھوڑ دینا مقامی آبادی کے لئے ایک بڑا دھچکا تھا اور انہوں نے خود کو غیر محفوظ محسوس کیا۔

سرکاری حکام کی تصدیق

ضلع پولیس آفیسر اور لتمبر پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی ایک سچا واقعہ ہے۔

اس واقعے کے بعد ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کرک میں پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور مختلف پولیس یونیفارمز، تصاویر، ہتھکڑیاں اور وہ سونا حاصل کیا جو پولیس نے غیر قانونی طور پر مقامی خواتین سے جمع کیا تھا۔

عسکریت پسندوں نے پولیس کو مزید حملوں کی دھمکیاں بھی دیں۔

ٹی ٹی پی کا دعویٰ اور ویڈیو

ٹی ٹی پی کی جاری کردہ ویڈیو نے عوام میں مزید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ویڈیو میں عسکریت پسندوں نے چیک پوسٹ پر حملے کی تفصیلات بتائیں اور پولیس سے حاصل کردہ اشیاء کو دکھایا۔

ویڈیو میں عسکریت پسندوں نے مزید حملوں کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی تو وہ دوبارہ حملہ کریں گے۔

اس ویڈیو نے مقامی آبادی اور سرکاری حکام میں بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔

ضلع کرک کی پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز ان عسکریت پسندوں کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال خراب ہو رہی ہے اور مقامی آبادی کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔

مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات کرے اور پولیس کی موجودگی کو یقینی بنائے تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

مقامی لوگوں کے تحفظات

مقامی لوگوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی ناکامی کی وجہ سے ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پولیس چیک پوسٹ چھوڑ کر بھاگ جائے گی تو عوام کس پر اعتماد کرے گی؟ مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لئے اقدامات کرے اور پولیس کی موجودگی کو یقینی بنائے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

پولیس اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر علاقے میں سیکورٹی فورسز کی تعداد بڑھائے اور چیک پوسٹوں کو دوبارہ فعال کرے تاکہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا اظہار تشویش

سابق رکن صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا، میاں افتخار حسین نے ضلع کرک میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حالیہ واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اے این پی کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ حکومت دہشت گردی کو ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایسے واقعات سے عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور حکومت کی نااہلی عوام کے لئے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہے۔

افتخار حسین نے سیکیورٹی ایجنسیز سے مطالبہ کیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو فوری طور پر روکنے کے لئے موثر اقدامات کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے تحفظ کے لئے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور سیکیورٹی فورسز کو اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر نبھانی چاہئیں تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی یقینی بنائی جا سکے۔

سوشل میڈیا پر عوام کا ردعمل

عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیز اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے عوام کو تحفظ فراہم کریں اور دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

ضلع کرک کے عوام نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کی وجہ سے عوام کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اب مزید ایسے واقعات برداشت نہیں کر سکتے اور حکومت سے فوری اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔

عوام نے مطالبہ کیا کہ مقامی ایم پی اے اور ایم این اے اس معاملے کو سیاسی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھائیں تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی اے اور ایم این اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی آواز بنیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کریں۔

عوام نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر علاقے میں سیکیورٹی کو بڑھائے، پولیس کی چیک پوسٹوں کو دوبارہ فعال کرے اور عوام کو تحفظ فراہم کرے۔

تحریک طالبان