Connect with us

بلاگز

خانہ بدوش لڑکی۔

ضیا خٹک

خانہ بدوش لڑکی

تم نے جب خانہ بدوشوں میں کسی پہاڑی کی چھوٹی پر اپنے خیمے میں آنکھیں کھولی تو تم اس دن دنیا کی نظروں میں بد کردار پیدا ہوئی تھی حالاں کہ تمہیں علم ہی نہیں تھا کہ میں کون ہوں؟۔ کس قبیلے میں پیدا ہوئی ہوں؟۔ کس مذہب سے میرا تعلق ہے؟

لیکن دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ تم ہمیں جسم بیچھا کرو گی یا ہم سے ایک دو پیسے مانگوں  گی۔ تمہارے والدین یہ سوچ کر خوش تھے کہ ہمارا دھندا اختیار کر کے ہمیں کچھ لا کر دے گی۔ پر تم عادات و اطوار میں کچھ مختلف پیدا ہوئی تھی۔

تمہارے پیدا ہوتے ہی تم میں کچھ آزاد بننے کی نشانیاں نمودار ہوئی تھی۔ تم شکلی صورت میں بھی اپنے خاندان میں انھوکی پیدا ہوئی تھی۔ تمہارے خاندان میں اگر چہ کالا ہونا پیدائشی ہے لیکن تم گوری چھٹی اس دنیا میں آئی تھی۔

تمہارے والدین تمہارے پیدائش پر کچھ زیادہ ہی اس لئے خوش تھے کہ ہماری بیٹی کے گاہگ زیادہ ہوں گے۔

جب تم جوانی کے دہلیز میں داخل ہوئی تو تم اپنے والدین کے پیشے کو اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ تمہارے والدین مسلسل تمہیں قائل کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ بلآخر تم قائل بھی ہوگئی، کیونکہ والدین کے محبت میں کس کا بس چلتا ہے اور وہ آپ سے یہی چاہتے تھے کہ تم ان کے پیشے کو اختیار کرو۔

تم نے پھر خانہ بدوش عورتوں کے ادائیں بھی سیکھ لئے، تم امیر مردوں کو اشارے بھی کرنا سیکھ گئی۔ تم نے اپنے جسم پر مشاقتیں برداشت کرنا سیکھ لیا۔ تم یہ سب کچھ چاہ کر نہیں کرتی۔

رات کو جب تم سونے کے لئے اپنے بستر پر جاتی ہو، تو پورے دن کو تھکاوٹ رو لیتی ہو، اپنے اس رب سے شکایتیں کر لیتی ہو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔

تم رو رو کر اس سوچ کے ساتھ سو جاتی ہیں کہ کل پھر دوبارہ اپنے دھندے کے لئے اٹھنا ہوتا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *